مطالعه قرآن:جدیدو قدیم چیلنجزاورعائلی حیات کی تفهیم نو
(ندگان)پدیدآور
پدیدآور نامشخصنوع مدرک
Textمقاله پژوهشی
زبان مدرک
فارسیچکیده
قرآن اپنی تفہیم میں بڑی حدتک خودکفیل ہےگویا شان نزول سے زیادہ اپنے نظم اور ترتیب سےسمجھے جانیکا متقاضی ہے۔اہل اسلام اور مستشرقین نے قرآنی آیات کو سمجھنے میں جگرکاری کی مگر وہ آیات ان کی نظروں سے اوجھل رہیں جوکثیرالجہت، رنگارنگ، تہہ درتہہ بلند مفاہیم رکھتی ہیں ۔یونانی فلسفے کی یلغارنے قرآن کو وضعیت اور صنعت کے قالب میں ڈھالاتو منطقی اصطلاحات سے اس کی معنی آفرینیوں کا سورج گہنا گیا۔آج اگرقرآن کو اس کے مخصوص عہد کے قانونی پہلووں کے ساتھ ساتھ اس کے دائمی نظام اخلاق واقدارکا جائزہ لیا جائے تو زرعی سے صنعتی معاشرت میں تبدیلی سے جوچیلنجز درآئے ہیں ان سے بخوبی نمٹا جاسکتاہے۔یہ مقالہ لائبریری ریسرچ اور تعزیری سے زیادہ تعمیری اصولوں اورپہلووں کا جائزہ لینے پہ مبنی ہوگا۔یہ ان غلطیوں کے ازالے کی کوشش ہے جو قرآن کو زرعی معاشرت کے چشمے سے دیکھنے کیوجہ سے لاحق ہوئیں۔خاندانی وحدت کو قرآن کے حقیقی مدعا سے سمجھنے کی کوشش کی جائیگی۔محاورہ عرب، تصریف آیات اور معاصر علوم میں جانکاری سے قرآن کے کثیرالجہتی پیغام کو سمجھنے کی کوشش ہمارے عہد کے عمومی اور عائلی حیات کے مخصوص جلتے بجھتے مسائل کی تفہیم میں ممد ثابت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ محض ماضی پرستی کی بجائے حال اور مستقبل پربھی نگاہ ہو۔
کلید واژگان
عائلی حیاتچلینجز
معاشرہ
قدیم اور جدید طرز
خاندان
قرآن
شماره نشریه
4تاریخ نشر
2018-06-221397-04-01




